EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں لفظ لفظ میں تجھ کو تلاش کرتا ہوں
سوال میں نہیں آتا نہ آ جواب میں آ

کرامت علی کرامت




میں شعاع ذات کے سینے میں گونجا ہوں کبھی
اور کرامتؔ میں کبھی لمحوں کے خوابوں میں رہا

کرامت علی کرامت




منزل پہ بھی پہنچ کے میسر نہیں سکوں
مجبور اس قدر ہیں شعور سفر سے ہم

کرامت علی کرامت




پتوار گر گئی تھی سمندر کی گود میں
دل کا سفینہ پھر بھی لہو کے سفر میں تھا

کرامت علی کرامت




سکون وصل میں اتنا نصیب ہو کہ نہ ہو
جس اضطراب سے میں انتظار کرتا ہوں

کرامت علی کرامت




ٹوٹ کر کتنوں کو مجروح یہ کر سکتا ہے
سنگ تو نے ابھی دیکھا نہیں شیشے کا جگر

کرامت علی کرامت




وہ کون تھا جو مری زندگی کے دفتر سے
حروف لے گیا خالی کتاب چھوڑ گیا

کرامت علی کرامت