EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس کا تو ایک لفظ بھی ہم کو نہیں ہے یاد
کل رات ایک شعر کہا تھا جو خواب میں

کمال احمد صدیقی




زندگی نام اسی موج مے ناب کا ہے
مے کدے سے جو اٹھے دار و رسن تک پہنچے

کمال احمد صدیقی




بکھرا بکھرا ہوں ایک مدت سے
رفتہ رفتہ سنور رہا ہوں میں

کمال جعفری




ہمیشہ آپ کو سمجھا کہ آپ اپنے ہیں
ہمیشہ آپ نے سمجھا کہ دوسرے ہیں ہم

کمال جعفری




قریب رہ کے بھی تو مجھ سے دور دور رہا
یہ اور بات کہ برسوں سے تیرے پاس ہوں میں

کمال جعفری




زلزلہ نیپال میں آیا کہ ہندوستان میں
زلزلہ کے نام سے تھرا اٹھا سارا جہاں

کمال جعفری




اب تو ہر وقت وہی اتنا رلاتا ہے مجھے
جس کو جاتے ہوئے میں دیکھ کے رو بھی نہ سکا

کامل اختر