EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سامنا آج انا سے ہوگا
بات رکھنی ہے تو سر دے دینا

کالی داس گپتا رضا




سراغ مہر و محبت کا ڈھونڈیو نہ کہیں
کہ ان کی راکھ ہوا میں بکھیر آیا میں

کالی داس گپتا رضا




زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخی
سمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں

کالی داس گپتا رضا




ایک دل ہے کہ اجڑ جائے تو بستا ہی نہیں
ایک بت خانہ ہے اجڑے تو حرم ہوتا ہے

کمال احمد صدیقی




کچھ لوگ جو خاموش ہیں یہ سوچ رہے ہیں
سچ بولیں گے جب سچ کے ذرا دام بڑھیں گے

کمال احمد صدیقی




مرا خیال نہیں ہے تو اور کیا ہوگا
گزر گیا ترے ماتھے سے جو شکن کی طرح

کمال احمد صدیقی




پرسش حال بھی اتنی کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں
اس تکلف سے کرم ہو تو ستم ہوتا ہے

کمال احمد صدیقی