EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اکثر اسی خیال نے مایوس کر دیا
شاید تمام عمر یوں ہی کاٹنی پڑے

کامل اختر




لمحوں کے تار کھینچتا رہتا تھا رات دن
اک شخص لے گیا مری صدیاں سمیٹ کے

کامل اختر




منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی
گاؤں اچھا تھا مگر اس میں کوئی لڑکی نہ تھی

کامل اختر




رتوں کے رنگ بدلتے ہوئے بھی بنجر ہے
وہ ایک خاص علاقہ جو دل کے اندر ہے

کامل اختر




عمر بھر یاد رہا اپنی وفاؤں کی طرح
ایک وہ عہد جسے آپ نے پورا نہ کیا

کامل اختر




آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیا
میں اس قدر اڑا کہ خلاؤں میں کھو گیا

کاملؔ بہزادی




آپ دامن کو ستاروں سے سجائے رکھئے
میری قسمت میں تو پتھر کے سوا کچھ بھی نہیں

کاملؔ بہزادی