EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چمن کا حسن سمجھ کر سمیٹ لائے تھے
کسے خبر تھی کہ ہر پھول خار نکلے گا

کالی داس گپتا رضا




دنیا تو سیدھی ہے لیکن دنیا والے
جھوٹی سچی کہہ کے اسے بہکاتے ہوں گے

کالی داس گپتا رضا




ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاج
ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی

کالی داس گپتا رضا




حیات لاکھ ہو فانی مگر یہ سن رکھئے
حیات سے جو ہے مقصود غیر فانی ہے

کالی داس گپتا رضا




جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے
انساں گھٹ کر سائے سے رہ جاتے ہوں گے

کالی داس گپتا رضا




خرد ڈھونڈھتی رہ گئی وجہ غم
مزا غم کا درد آشنا لے گیا

کالی داس گپتا رضا




لب خرد سے یہی بار بار نکلے گا
نکالنے ہی سے دل کا غبار نکلے گا

کالی داس گپتا رضا