EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہاں پہ دشت و سمندر کی بات مت کرنا
ہمارے شہر کا ہر شخص ہے مکان زدہ

کلیم حیدر شرر




ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندا
مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے

کلیم عثمانی




جب کسی نے قد و گیسو کا فسانہ چھیڑا
بات بڑھ کے رسن و دار تک آ پہنچی ہے

کلیم عثمانی




اب کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کے لاؤ نیا وجود
انسان تو بلندی انساں سے گھٹ گیا

کالی داس گپتا رضا




ازل سے تا بہ ابد ایک ہی کہانی ہے
اسی سے ہم کو نئی داستاں بنانی ہے

کالی داس گپتا رضا




بات اگر نہ کرنی تھی کیوں چمن میں آئے تھے
رنگ کیوں بکھیرا تھا پھول کیوں کھلائے تھے

کالی داس گپتا رضا




بہار آئی گلوں کو ہنسی نہیں آئی
کہیں سے بو تری گفتار کی نہیں آئی

کالی داس گپتا رضا