EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس قدر میں نے سلگتے ہوئے گھر دیکھے ہیں
اب تو چبھنے لگے آنکھوں میں اجالے مجھ کو

کاملؔ بہزادی




کیا ترے شہر کے انسان ہیں پتھر کی طرح
کوئی نغمہ کوئی پائل کوئی جھنکار نہیں

کاملؔ بہزادی




لوگ بھوپال کی تعریف کیا کرتے ہیں
اس نگر میں تو ترے گھر کے سوا کچھ بھی نہیں

کاملؔ بہزادی




تعلق ہے نہ اب ترک تعلق
خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے

کاملؔ بہزادی




غم دوراں غم جاناں غم عقبیٰ غم دنیا
کنولؔ اس زندگی میں غم کے ماروں کو نہ چین آیا

کنولؔ ڈبائیوی




ہنسی میں کٹتی تھیں راتیں خوشی میں دن گزرتا تھا
کنولؔ ماضی کا افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

کنولؔ ڈبائیوی




جس نے بنیاد گلستاں کی کبھی ڈالی تھی
اس کو گلشن سے گزرنے نہیں دیتی دنیا

کنولؔ ڈبائیوی