EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کس سے میں ان کا ٹھکانا پوچھتا
سامنے خالی مکاں تھا اور میں

کبیر اجمل




کوئی صدا کوئی آوازۂ جرس ہی سہی
کوئی بہانہ کہ ہم جاں نثار کرتے رہیں

کبیر اجمل




کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگے
اس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگے

کبیر اجمل




کیوں بام پہ آوازوں کا دھمال ہے اجملؔ
اس گھر پہ تو آسیب کا سایہ بھی نہیں ہے

کبیر اجمل




لہو رشتوں کا اب جمنے لگا ہے
کوئی سیلاب میرے گھر بھی آئے

کبیر اجمل




میں بجھ گیا تو کون اجالے گا تیرا روپ
زندہ ہوں اس خیال میں مرتا ہوا سا میں

کبیر اجمل




افق کے آخری منظر میں جگمگاؤں میں
حصار ذات سے نکلوں تو خود کو پاؤں میں

کبیر اجمل