EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حسن کو بھی کہاں نصیب جگرؔ
وہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے

جگر مراد آبادی




حسن کو کیا دشمنی ہے عشق کو کیا بیر ہے
اپنے ہی قدموں کی خود ہی ٹھوکریں کھاتا ہوں میں

جگر مراد آبادی




ہوں خطا کار سیاہ کار گنہ گار مگر
کس کو بخشے تری رحمت جو گنہ گار نہ ہو

جگر مراد آبادی




ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا

جگر مراد آبادی




ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری
کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی

جگر مراد آبادی




اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جگر مراد آبادی




اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں
در حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا

جگر مراد آبادی