کمال تشنگی ہی سے بجھا لیتے ہیں پیاس اپنی
اسی تپتے ہوئے صحرا کو ہم دریا سمجھتے ہیں
جگر مراد آبادی
کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
لاکھ بلائیں ایک نشیمن
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مرے رہ رہ کر
اب خدا جانے تری یاد ہے یا دل میرا
جگر مراد آبادی
کوچۂ عشق میں نکل آیا
جس کو خانہ خراب ہونا تھا
جگر مراد آبادی
کیا بتاؤں کس قدر زنجیر پا ثابت ہوئے
چند تنکے جن کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
جگر مراد آبادی
کیا خبر تھی خلش ناز نہ جینے دے گی
یہ تری پیار کی آواز نہ جینے دے گی
جگر مراد آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

