EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنی تائید پہ خود عقل بھی حیران ہوئی
دل نے ایسے مرے خوابوں کی حمایت کی ہے

جواد شیخ




ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں
وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے

جواد شیخ




کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

جواد شیخ




کر کچھ ایسا کہ تجھے یاد رکھوں
بھول جانے کا تقاضا ہی سہی

جواد شیخ




کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب
تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے

جواد شیخ




لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے
پھر تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے

جواد شیخ




میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں
مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں

جواد شیخ