EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھر ہوا ایسے کہ مجھ کو در بدر کرنے کے بعد
نام اس بستی کا میرے نام پر رکھا گیا

جواز جعفری




ذہن اس خوف سے ہونے لگے بنجر کہ یہاں
اچھی تخلیق پر کٹ جاتے ہیں معمار کے ہاتھ

جواز جعفری




آس بندھاتی ہے سدا سکھ کی ہوگی بھور
اپنے ارادوں کو ابھی مت کرنا کمزور

جینت پرمار




بستر پہ لیٹے لیٹے مری آنکھ لگ گئی
یہ کون میرے کمرے کی بتی بجھا گیا

جینت پرمار




چاہت کی بھاشا نہیں شبدوں کو مت تول
خاموشی کا گیت سن چاند کی کھڑکی کھول

جینت پرمار




دل کو دکھاتی ہے پھر بھی کیوں اچھی لگتی ہے
یادوں کی یہ شام سہانی دل میں قید ہوئی

جینت پرمار




ہر ایک شاخ کے ہاتھوں میں پھول مہکیں گے
خزاں کا پیڑ بھی کپڑے بدلنا چاہتا ہے

جینت پرمار