پھر ہوا ایسے کہ مجھ کو در بدر کرنے کے بعد
نام اس بستی کا میرے نام پر رکھا گیا
جواز جعفری
ذہن اس خوف سے ہونے لگے بنجر کہ یہاں
اچھی تخلیق پر کٹ جاتے ہیں معمار کے ہاتھ
جواز جعفری
آس بندھاتی ہے سدا سکھ کی ہوگی بھور
اپنے ارادوں کو ابھی مت کرنا کمزور
جینت پرمار
بستر پہ لیٹے لیٹے مری آنکھ لگ گئی
یہ کون میرے کمرے کی بتی بجھا گیا
جینت پرمار
چاہت کی بھاشا نہیں شبدوں کو مت تول
خاموشی کا گیت سن چاند کی کھڑکی کھول
جینت پرمار
دل کو دکھاتی ہے پھر بھی کیوں اچھی لگتی ہے
یادوں کی یہ شام سہانی دل میں قید ہوئی
جینت پرمار
ہر ایک شاخ کے ہاتھوں میں پھول مہکیں گے
خزاں کا پیڑ بھی کپڑے بدلنا چاہتا ہے
جینت پرمار

