EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے
فنا بھی ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

جواد شیخ




میں اس خیال سے جاتے ہوئے اسے نہ ملا
کہ روک لیں نہ کہیں سامنے کھڑے آنسو

جواد شیخ




نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا

جواد شیخ




ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے

جواد شیخ




یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے
گزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا؟

جواد شیخ




ادب کا زینہ ملا زیست کا قرینہ ملا
کہاں کہاں نہ ترے غم سے استفادہ ہوا

جواز جعفری




کبھی دیوار کو ترسے کبھی در کو ترسے
ہم ہوئے خانہ بدوش ایسے کہ گھر کو ترسے

جواز جعفری