EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کچی دیواریں صدا نوشی میں کتنی طاق تھیں
پتھروں میں چیخ کر دیکھا تو اندازا ہوا

جمنا پرشاد راہیؔ




کشتیاں ڈوب رہی ہیں کوئی ساحل لاؤ
اپنی آنکھیں مری آنکھوں کے مقابل لاؤ

جمنا پرشاد راہیؔ




کون ہے تجھ سا جو بانٹے مری دن بھر کی تھکن
مضمحل رات ہے بستر کا بدن دکھتا ہے

جمنا پرشاد راہیؔ




لوٹ بھی آیا تو صدیوں کی تھکن لائے گا
صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آنے تک

جمنا پرشاد راہیؔ




میں لفظ خام ہوں کوئی کہ ترجمان غزل
یہ فیصلہ کسی تازہ کتاب پر ٹھہرا

جمنا پرشاد راہیؔ




صدیوں کا انتشار فصیلوں میں قید تھا
دستک یہ کس نے دی کہ عمارت بکھر گئی

جمنا پرشاد راہیؔ




دوستوں اور دشمنوں میں کس طرح تفریق ہو
دوستوں اور دشمنوں کی بے رخی ہے ایک سی

جان کاشمیری