EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو
تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو

جمیلؔ مرصع پوری




اور جو ہوگا وہ بھی دیکھیں گے
ویسے کیا کچھ نہیں ہوا ہے میاں

جمیلؔ مرصع پوری




گھر اپنا کسی اور کی نظروں سے نہ دیکھو
ہر طرح سے اجڑا ہے مگر پھر بھی سجا ہے

جمیلؔ مرصع پوری




صدیوں سے زمانے کا یہ انداز رہا ہے
سایہ بھی جدا ہو گیا جب وقت پڑا ہے

جمیلؔ مرصع پوری




یہ دور بھی کیا دور ہے اس دور میں یارو
سچ بولنے والوں کا ہی انجام برا ہے

جمیلؔ مرصع پوری




یہ کیسا وقت مجھ پر آ گیا ہے
مرے قد سے مرا سایہ بڑا ہے

جمیلؔ مرصع پوری




ہونٹوں سے وہ دیکھتا ہے مجھ کو
آنکھوں سے مجھے پکارتا ہے

جمشید مسرور