EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بھیڑ میں زمانے کی ہم سدا اکیلے تھے
وہ بھی دور ہے کتنا جو رگ گلو میں ہے

جامی ردولوی




زہر زندگانی کا پی کے عقل آئی ہے
داروئے غم ہستی تلخئ سبو میں ہے

جامی ردولوی




اپنے بارے میں جب بھی سوچا ہے
اس کا چہرہ نظر میں ابھرا ہے

جمیل نظر




بڑا عجیب ہے تہذیب ارتقا کے لیے
تمام عمر کسی اک کو ہم نوا رکھنا

جمیل نظر




بے وفا ہی سہی زمانے میں
ہم کسی فن کی انتہا تو ہوئے

جمیل نظر




دیکھیے تو ہے کارواں ورنہ
ہر مسافر سفر میں تنہا ہے

جمیل نظر




نہ قرب ذات ہی حاصل نہ زخم رسوائی
عجیب لگتا ہے اب خود سے رابطہ رکھنا

جمیل نظر