EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

جون ایلیا




آج مجھ کو بہت برا کہہ کر
آپ نے نام تو لیا میرا

جون ایلیا




آخری بات تم سے کہنا ہے
یاد رکھنا نہ تم کہا میرا

جون ایلیا




اب جو رشتوں میں بندھا ہوں تو کھلا ہے مجھ پر
کب پرند اڑ نہیں پاتے ہیں پروں کے ہوتے

جون ایلیا




اب خاک اڑ رہی ہے یہاں انتظار کی
اے دل یہ بام و در کسی جان جہاں کے تھے

جون ایلیا




اب کہ جب جانانہ تم کو ہے سبھی پر اعتبار
اب تمہیں جانانہ مجھ پر اعتبار آیا تو کیا

جون ایلیا




اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

جون ایلیا