EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ نہیں آج کل خفا ہم سے
کوئی نکلا ہے راستہ شاید

جتیندر ویر یخمی جے ویرؔ




ہم جہاں رہتے ہیں وہ دشت وہ گھر
دشت لگتے ہیں نہ گھر لگتے ہیں

جوہر میر




کوئی موسم بھی سزاوار محبت نہیں اب
زرد پتوں کو ہواؤں سے شکایت نہیں اب

جوہر میر




عجب شاعر کی عادت ہے کہ جب بیڑی جلانے کو
کسی سے مانگی ماچس تو جلا کر جیب میں رکھ لی

جوہر سیوانی




ہم رہے ہیں منزلوں ہی منزلوں میں عمر بھر
جیسے قسمت میں کسی پہلو شکیبائی نہ تھی

جوہر زاہری




وہ لوگ جو کہ مآل چمن سے واقف ہیں
خزاں نصیب گلوں کی بہار کیا دیکھیں

جوہر زاہری




آئینوں کو زنگ لگا
اب میں کیسا لگتا ہوں

جون ایلیا