EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عجیب آگ لگا کر کوئی روانہ ہوا
مرے مکان کو جلتے ہوئے زمانہ ہوا

جمنا پرشاد راہیؔ




اماں کسے تھی مرے سائے میں جو رکتا کوئی
خود اپنی آگ میں جلتا ہوا شجر تھا میں

جمنا پرشاد راہیؔ




گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا
ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا

جمنا پرشاد راہیؔ




ہر روح پس پردۂ ترتیب عناصر
ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہے

جمنا پرشاد راہیؔ




ہوا کی گود میں موج سراب بھی ہوگی
گریں گے پھول تو ٹھہرے گی گرد شاخوں پر

جمنا پرشاد راہیؔ




اک رات ہے پھیلی ہوئی صدیوں پر
ہر لمحہ اندھیروں کے اثر میں ہے

جمنا پرشاد راہیؔ




جو سنتے ہیں کہ ترے شہر میں دسہرا ہے
ہم اپنے گھر میں دوالی سجانے لگتے ہیں

جمنا پرشاد راہیؔ