EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترے فراق کے صدمے قبول ہیں لیکن
جفا کے بعد چلے تو وفا کا دور چلے

جان کاشمیری




اس کو پتا نہیں ہے خزاں کے مزاج کا
وہ واقف بہار ہوا ہے ابھی ابھی

جان کاشمیری




آئے ہیں سنتے کہ ایسا وقت بھی آتا ہے جب
ہو دوا یا پھر دعا کچھ کارگر ہوتا نہیں

جتیندر ویر یخمی جے ویرؔ




دکھ کٹے زحمت کٹے کٹ جائے بد حالی سبھی
وقت کاٹے نا کٹے تو کیا کریں کس سے کہیں

جتیندر ویر یخمی جے ویرؔ




خوب گہری جو لگی چوٹ تو ہم نے جانا
وقت لگتا ہے کسی درد کو جاتے جاتے

جتیندر ویر یخمی جے ویرؔ




لاکھ چاہا کہ ہو پہچان کوئی اپنی بھی
کاش ہم آپ کے ہی نام سے جانے جاتے

جتیندر ویر یخمی جے ویرؔ




میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجاتے رہئے
نہ سہی وصل مگر یاد تو آتے رہئے

جتیندر ویر یخمی جے ویرؔ