EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نعمت خلد تھی بشر کے لئے
خاک چاٹی نظر گزر کے لئے

اسماعیلؔ میرٹھی




پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں
کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا

اسماعیلؔ میرٹھی




روشن ہے آفتاب کی نسبت چراغ سے
نسبت وہی ہے آپ میں اور آفتاب میں

اسماعیلؔ میرٹھی




روز جزا میں آخر پوچھا نہ جائے گا کیا
تیرا یہ چپ لگانا میرا سوال کرنا

اسماعیلؔ میرٹھی




سب کچھ تو کیا ہم نے پہ کچھ بھی نہ کیا ہائے
حیران ہیں کیا جانیے کیا ہو نہیں سکتا

اسماعیلؔ میرٹھی




سیر ورود قافلۂ نو بہار دیکھ
برپا خیام اوج ہوا میں گھٹا کے ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




سمجھتے ہیں شیروں کو بھی نرم چارہ
غزالان شہری سے ہشیار رہنا

اسماعیلؔ میرٹھی