نعمت خلد تھی بشر کے لئے
خاک چاٹی نظر گزر کے لئے
اسماعیلؔ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں
کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا
اسماعیلؔ میرٹھی
روشن ہے آفتاب کی نسبت چراغ سے
نسبت وہی ہے آپ میں اور آفتاب میں
اسماعیلؔ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
روز جزا میں آخر پوچھا نہ جائے گا کیا
تیرا یہ چپ لگانا میرا سوال کرنا
اسماعیلؔ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سب کچھ تو کیا ہم نے پہ کچھ بھی نہ کیا ہائے
حیران ہیں کیا جانیے کیا ہو نہیں سکتا
اسماعیلؔ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سیر ورود قافلۂ نو بہار دیکھ
برپا خیام اوج ہوا میں گھٹا کے ہیں
اسماعیلؔ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سمجھتے ہیں شیروں کو بھی نرم چارہ
غزالان شہری سے ہشیار رہنا
اسماعیلؔ میرٹھی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

