EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شیخ اور برہمن میں اگر لاگ ہے تو ہو
دونوں شکار غمزہ اسی دل ربا کے ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




صبح کے بھولے تو آئے شام کو
دیکھیے کب آئیں بھولے شام کے

اسماعیلؔ میرٹھی




تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

اسماعیلؔ میرٹھی




تاثیر ہو کیا خاک جو باتوں میں گھڑت ہو
کچھ بات نکلتی ہے تو بے ساختہ پن میں

اسماعیلؔ میرٹھی




تھی چھیڑ اسی طرف سے ورنہ
میں اور مجال آرزو کی

اسماعیلؔ میرٹھی




تمہارے دل سے کدورت مٹائے تو جانیں
کھلا ہے شہر میں اک محکمہ صفائی کا

اسماعیلؔ میرٹھی




تو ہی ظاہر ہے تو ہی باطن ہے
تو ہی تو ہے تو میں کہاں تک ہوں

اسماعیلؔ میرٹھی