EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ تیرے بچھڑنے کا سماں یاد جب آیا
بیتے ہوئے لمحوں کو سسکتے ہوئے دیکھا

عشرت قادری




یوں زندگی گزر رہی ہے میری
جو ان کی ہے وہی خوشی ہے میری

عشرت قادری




ظاہری شکل میری زندہ ہے
اور اندر سے مر گیا ہوں میں

عشرت قادری




کتنے بن باس لئے پھر بھی ترے ساتھ رہے
ہم نے سوچا ہی نہیں تجھ سے جدا ہو جانا

عشرت رومانی




رفتہ رفتہ ذہن کے سب قمقمے بجھ جائیں گے
اور اک اندھے نگر کا راستہ رہ جائے گا

عشرت رومانی




چار جانب چیختی سمتوں کا شور
ہانپتے سائے تھکن اور انحطاط

عشرت ظفر




چشمۂ آب رواں ہے جو سراب جاں میں
اس کی ہر لہر میں رقصاں ہے ترنم تیرا

عشرت ظفر