EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دریا کی طرح رواں ہوں لیکن
اب تک بھی وہیں ہوں میں جہاں ہوں

اسماعیلؔ میرٹھی




دید وا دید کی رخصت ہی سہی
میرے حصہ کی قیامت ہی سہی

اسماعیلؔ میرٹھی




دلبری جذب محبت کا کرشمہ ہے فقط
کچھ کرامت نہیں جادو نہیں اعجاز نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




دوستی اور کسی غرض کے لئے
وہ تجارت ہے دوستی ہی نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




گر دیکھیے تو خاطر ناشاد شاد ہے
سچ پوچھیے تو ہے دل ناکام کام کا

اسماعیلؔ میرٹھی




گر خندہ یاد آئے تو سینہ کو چاک کر
گر غمزہ یاد آئے تو زخم سناں اٹھا

اسماعیلؔ میرٹھی




حبس دوام تو نہیں دنیا کہ مر رہوں
کاہے کو گھر خیال کروں رہ گزر کو میں

اسماعیلؔ میرٹھی