EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جدھر بھی جاتا ہے وہ شعلۂ بہار سرشت
دعائیں دیتا ہے انبوہ کشتگاں اس کو

عشرت ظفر




مرے عقب میں ہے آوازۂ نمو کی گونج
ہے دشت جاں کا سفر کامیاب اپنی جگہ

عشرت ظفر




مرے کمرے کی دیواروں میں ایسے آئنے بھی ہیں
کہ جن کے پاس ہر شخص اپنا چہرا چھوڑ جاتا ہے

عشرت ظفر




سب مرے دل پہ کرم اس نگۂ ناز کا ہے
بے قراری ہے مری اور نہ سکوں ہے میرا

عشرت ظفر




وہ اک لمحہ جو تیرے قرب کی خوشبو سے ہے روشن
اب اس لمحے کو پابند سلاسل چاہتا ہوں میں

عشرت ظفر




وہ میرے راز مجھ میں چاہتا ہے منکشف کرنا
مجھے میرے گھنے سائے میں تنہا چھوڑ جاتا ہے

عشرت ظفر




چاند ہیں نہ تارے ہیں آسماں کے آنگن میں
رقص کرتے ہیں شعلے اب تو شب کے دامن میں

اشتیاق طالب