EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ جس نے اشکوں سے ہار نہیں مانی
کس خاموشی سے دریا میں ڈوب گئی

عشرت آفریں




وہ زخم چن کے مرے خار مجھ میں چھوڑ گیا
کہ اس کو شوق تھا بے انتہا گلابوں کا

عشرت آفریں




یا مجھے تیری ہتھیلی بوجھے
یا کوئی شوخ سہیلی بوجھے

عشرت آفریں




یہ اور بات کہ کم حوصلہ تو میں بھی تھی
مگر یہ سچ ہے اسے پہلے میں نے چاہا تھا

عشرت آفریں




اک سایہ شرماتا لجاتا راہ میں تنہا چھوڑ گیا
میں پرچھائیں ڈھونڈ رہا ہوں ٹوٹی ہوئی دیواروں پر

عشرت قادری




ان اندھیروں سے پرے اس شب غم سے آگے
اک نئی صبح بھی ہے شام الم سے آگے

عشرت قادری




کون دیکھے گا مجھ میں اب چہرہ
آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں

عشرت قادری