EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ابھی چھٹی نہیں جنت کی دھول پاؤں سے
ہنوز فرش زمیں پر نیا نیا ہوں میں

افتخار مغل




گھیر لیتی ہے کوئی زلف، کوئی بوئے بدن
جان کر کوئی گرفتار نہیں ہوتا یار

افتخار مغل




ہم نے اس چہرے کو باندھا نہیں مہتاب مثال
ہم نے مہتاب کو اس رخ کے مماثل باندھا

افتخار مغل




اک خلا، ایک لا انتہا اور میں
کتنے تنہا ہیں میرا خدا اور میں

افتخار مغل




کئی دنوں سے مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے
کوئی اداس سی ٹھنڈی سی کوئی پرچھائیں

افتخار مغل




خدا! صلہ دے دعا کا، محبتوں کے خدا
خدا! کسی نے کسی کے لیے دعا کی تھی

افتخار مغل




کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں
تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

افتخار مغل