میں تم کو خود سے جدا کر کے کس طرح دیکھوں
کہ میں بھی ''تم'' ہوں، کوئی دوسرا نہیں ہوں میں
افتخار مغل
مرے وجود کے اندر مجھے تلاش نہ کر
کہ اس مکان میں اکثر رہا نہیں ہوں میں
افتخار مغل
محبت اور عبادت میں فرق تو ہے ناں
سو چھین لی ہے تری دوستی محبت نے
افتخار مغل
سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میں
تجھے خبر نہیں کس آگ میں جلا ہوں میں
افتخار مغل
تو مجھ سے میرے زمانوں کا پوچھتی ہے تو سن!
ترا جنوں، ترا سودا، تری طلب، تری یاد
افتخار مغل
یہی چراغ ہے سب کچھ کہ دل کہیں جس کو
اگر یہ بجھ گیا تو آدمی بھی پرچھائیں
افتخار مغل
اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں
کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں
افتخار نسیم

