درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا
افتخار امام صدیقی
اک مسلسل دوڑ میں ہیں منزلیں اور فاصلے
پاؤں تو اپنی جگہ ہیں راستہ اپنی جگہ
افتخار امام صدیقی
جو چپ رہا تو وہ سمجھے گا بد گمان مجھے
برا بھلا ہی سہی کچھ تو بول آؤں میں
افتخار امام صدیقی
پھر اس کے بعد تعلق میں فاصلے ہوں گے
مجھے سنبھال کے رکھنا بچھڑ نہ جاؤں میں
افتخار امام صدیقی
وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں
افتخار امام صدیقی
نشتر غم نہ جس کو راس آیا
زیست اس کو کبھی نہ راس آئی
افتخار جمیل شاہین
آنکھ جھپکی تھی بس اک لمحے کو اور اس کے بعد
میں نے ڈھونڈا ہے تجھے زندگی صحرا صحرا
افتخار مغل

