وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں
سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا
افتخار عارف
وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو
افتخار عارف
ٹیگز:
| رسوائی |
| 2 لائنیں شیری |
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں
دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں
افتخار عارف
ٹیگز:
| دعا |
| 2 لائنیں شیری |
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| دعا |
| 2 لائنیں شیری |

