EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا
عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا

افتخار نسیم




کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا

افتخار نسیم




خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے
جیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے

افتخار نسیم




کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں
جل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھ

افتخار نسیم




میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک

افتخار نسیم




مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

افتخار نسیم




نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے
وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا

افتخار نسیم