جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا
عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا
افتخار نسیم
کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا
افتخار نسیم
خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے
جیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے
افتخار نسیم
کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں
جل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھ
افتخار نسیم
میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک
افتخار نسیم
مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے
افتخار نسیم
نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے
وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
افتخار نسیم

