EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ
وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا

عفت زریں




ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے
ایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہے

عفت زریں




عجب تناؤ ہے ماحول میں کہیں کس سے
کہیں پہ آج کوئی حادثہ ہوا تو نہیں

افتخار اعظمی




حسن یوں عشق سے ناراض ہے اب
پھول خوشبو سے خفا ہو جیسے

افتخار اعظمی




کتنا سنسان ہے رستہ دل کا
قافلہ کوئی لٹا ہو جیسے

افتخار اعظمی




شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریب
رک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریب

افتخار اعظمی




اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

افتخار عارف