EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں
ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں

ادریس بابر




یہ کرن کہیں مرے دل میں آگ لگا نہ دے
یہ معائنہ مجھے سرسری نہیں لگ رہا

ادریس بابر




اگر وہ چاند کی بستی کا رہنے والا تھا
تو اپنے ساتھ ستاروں کا قافلہ رکھتا

عفت زریں




دیکھ کر انسان کی بیچارگی
شام سے پہلے پرندے سو گئے

عفت زریں




کون پہچانے گا زریںؔ مجھ کو اتنی بھیڑ میں
میرے چہرے سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا

عفت زریں




پتھر کے جسم موم کے چہرے دھواں دھواں
کس شہر میں اڑا کے ہوا لے گئی مجھے

عفت زریں




وہ مل گیا تو بچھڑنا پڑے گا پھر زریںؔ
اسی خیال سے ہم راستے بدلتے رہے

عفت زریں