EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

ادریس بابر




تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!

ادریس بابر




ٹوٹ سکتا ہے چھلک سکتا ہے چھن سکتا ہے
اتنا سوچے تو کوئی جام اچھالے کیسے

ادریس بابر




وہی خواب ہے وہی باغ ہے وہی وقت ہے
مگر اس میں اس کے بغیر جی نہیں لگ رہا

ادریس بابر




وہی نہ ہو کہ یہ سب لوگ سانس لینے لگیں
امیر شہر کوئی اور خوف طاری کر

ادریس بابر




وہ بہت دور ہے مگر مرے پاس
ایک ہی سمت کا کرایا ہے

ادریس بابر




وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا
اور اک شور مچ گیا مجھ میں

ادریس بابر