دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
افتخار عارف
دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم
افتخار عارف
دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ
اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں
افتخار عارف
ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
افتخار عارف
ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں
افتخار عارف
غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے
وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے
افتخار عارف

