EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے
شاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا

ادریس بابر




مر گیا خاص طور پر میں بھی
جس طرح عام لوگ مرتے ہیں

ادریس بابر




موت کی پہلی علامت صاحب
یہی احساس کا مر جانا ہے

ادریس بابر




موت اکتا چکی ریہرسل میں
روز دو چار شخص مرتے ہیں

ادریس بابر




مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں
جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے

ادریس بابر




پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر
کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو

ادریس بابر




پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے
اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر

ادریس بابر