لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہے
لفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہے
ابراہیم ہوش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کا
جہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائے
ابراہیم ہوش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کرو
ہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہے
ابراہیم ہوش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کا
پلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیں
ابراہیم ہوش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میں
میرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیا
ابراہیم ہوش
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں
ابراہیم اشکؔ
بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا
ابراہیم اشکؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

