EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہے
لفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہے

ابراہیم ہوش




مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کا
جہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائے

ابراہیم ہوش




روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کرو
ہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہے

ابراہیم ہوش




طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کا
پلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیں

ابراہیم ہوش




یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میں
میرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیا

ابراہیم ہوش




بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

ابراہیم اشکؔ




بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

ابراہیم اشکؔ