EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خوشی میری گوارہ تھی نہ قسمت کو نہ دنیا کو
سو میں کچھ غم برائے خاطر احباب اٹھا لائی

حمیرا راحتؔ




مرے دل کے اکیلے گھر میں راحتؔ
اداسی جانے کب سے رہ رہی ہے

حمیرا راحتؔ




نہ ہم سے عشق کا مفہوم پوچھو
یہ لفظ اپنے معانی سے بڑا ہے

حمیرا راحتؔ




سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے
سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

حمیرا راحتؔ




تعلق کی نئی اک رسم اب ایجاد کرنا ہے
نہ اس کو بھولنا ہے اور نہ اس کو یاد کرنا ہے

حمیرا راحتؔ




اسے بھی زندگی کرنی پڑے گی میرؔ جیسی
سخن سے گر کوئی رشتہ نبھانا چاہتا ہے

حمیرا راحتؔ




وہ اور تھے کہ جو ناخوش تھے دو جہاں لے کر
ہمارے پاس تو بس اک جہان تھا نہ رہا

حمیرا راحتؔ