کل جو میں نے جھانک کے دیکھا اس کی نیلی آنکھوں میں
اس کے دل کا زخم تو ماجدؔ ساگر سے بھی گہرا ہے
حسین ماجد
ماجدؔ خدا کے واسطے کچھ دیر کے لیے
رو لینے دے اکیلا مجھے اپنے حال پر
حسین ماجد
اس کا چہرہ اداس ہے ماجدؔ
آئینے پر نظر گئی ہوگی
حسین ماجد
کیک بسکٹ کھائیں گے الو کے پٹھے رات دن
اور شریفوں کے لیے آٹا گراں ہو جائے گا
حسین میر کاشمیری
آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی
لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا
ابن انشا
اہل وفا سے ترک تعلق کر لو پر اک بات کہیں
کل تم ان کو یاد کرو گے کل تم انہیں پکارو گے
ابن انشا
اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے
دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے
ابن انشا

