سورج کے اجالے میں چراغاں نہیں ممکن
سورج کو بجھا دو کہ زمیں جشن منائے
حمایت علی شاعرؔ
سورج کو یہ غم ہے کہ سمندر بھی ہے پایاب
یا رب مرے قلزم میں کوئی سیل رواں اور
حمایت علی شاعرؔ
تاریکی میں لپٹی ہوئی پر ہول خموشی
اس عالم میں کیا نہیں ممکن جاگتے رہنا
حمایت علی شاعرؔ
تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی
کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے
حمایت علی شاعرؔ
یہ کیسا قافلہ ہے جس میں سارے لوگ تنہا ہیں
یہ کس برزخ میں ہیں ہم سب تمہیں بھی سوچنا ہوگا
حمایت علی شاعرؔ
زندگی کی بات سن کر کیا کہیں
اک تمنا تھی تقاضا بن گئی
حمایت علی شاعرؔ
آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے
اس طرف نگاہیں ہیں اس طرف نشانہ ہے
حنا تیموری

