EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سورج کے اجالے میں چراغاں نہیں ممکن
سورج کو بجھا دو کہ زمیں جشن منائے

حمایت علی شاعرؔ




سورج کو یہ غم ہے کہ سمندر بھی ہے پایاب
یا رب مرے قلزم میں کوئی سیل رواں اور

حمایت علی شاعرؔ




تاریکی میں لپٹی ہوئی پر ہول خموشی
اس عالم میں کیا نہیں ممکن جاگتے رہنا

حمایت علی شاعرؔ




تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی
کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعرؔ




یہ کیسا قافلہ ہے جس میں سارے لوگ تنہا ہیں
یہ کس برزخ میں ہیں ہم سب تمہیں بھی سوچنا ہوگا

حمایت علی شاعرؔ




زندگی کی بات سن کر کیا کہیں
اک تمنا تھی تقاضا بن گئی

حمایت علی شاعرؔ




آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے
اس طرف نگاہیں ہیں اس طرف نشانہ ہے

حنا تیموری