EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم سے آداب جینے کے سیکھو
ہم بزرگوں میں بیٹھے بہت ہیں

حنا تیموری




اپنے گھروں کے کر دیے آنگن لہو لہو
ہر شخص میرے شہر کا قابیل ہو گیا

ہیرا نند سوزؔ




اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے گزر جاتی ہے
بوئے گل بھی ترے دامن کی ہوا ہو جیسے

ہوش ترمذی




دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل
وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

ہوش ترمذی




دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے
اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

ہوش ترمذی




ملنے کو ہے خموشئ اہل جنوں کی داد
اٹھنے کو ہے زمیں سے دھواں دیکھتے رہو

ہوش ترمذی




تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو
روشن چراغ دل نہ سہی جام مے تو ہو

ہوش ترمذی