EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بہت تاخیر سے پایا ہے خود کو
میں اپنے صبر کا پھل ہو گئی ہوں

حمیرا راحتؔ




بنا کر ایک گھر دل کی زمیں پر اس کی یادوں کا
کبھی آباد کرنا ہے کبھی برباد کرنا ہے

حمیرا راحتؔ




گزر جائے گی ساری رات اس میں
مرا قصہ کہانی سے بڑا ہے

حمیرا راحتؔ




حضور آپ کوئی فیصلہ کریں تو سہی
ہیں سر جھکے ہوئے دربار بھی لگا ہوا ہے

حمیرا راحتؔ




جہاں اک شخص بھی ملتا نہیں ہے چاہنے سے
وہاں یہ دل ہتھیلی پر زمانہ چاہتا ہے

حمیرا راحتؔ




جو منزل تک جا کے اور کہیں مڑ جائے
تم ایسے رستے کے دکھ سے ناواقف ہو

حمیرا راحتؔ




کبھی کبھی تو جدا بے سبب بھی ہوتے ہیں
سدا زمانے کی تقصیر تھوڑی ہوتی ہے

حمیرا راحتؔ