میں سچ تو بولتا ہوں مگر اے خدائے حرف
تو جس میں سوچتا ہے مجھے وہ زبان دے
حمایت علی شاعرؔ
میں سوچتا ہوں اس لیے شاید میں زندہ ہوں
ممکن ہے یہ گمان حقیقت کا گیان دے
حمایت علی شاعرؔ
پھر مری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کر
حاصل غم کو خدا را غم حاصل نہ بنا
حمایت علی شاعرؔ
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا
اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا
حمایت علی شاعرؔ
شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
حمایت علی شاعرؔ
شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز
اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ
حمایت علی شاعرؔ
صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے
کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو
حمایت علی شاعرؔ

