پہلے بھی جہاں پر بچھڑے تھے وہی منزل تھی اس بار مگر
وہ بھی بے لوث نہیں لوٹا ہم بھی بے تاب نہیں آئے
ہلال فرید
اس اجنبی سے واسطہ ضرور تھا کوئی
وہ جب کبھی ملا تو بس مرا لگا مجھے
ہلال فرید
اب نہ کوئی منزل ہے اور نہ رہ گزر کوئی
جانے قافلہ بھٹکے اب کہاں کہاں یارو
حمایت علی شاعرؔ
اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھے
تھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا
حمایت علی شاعرؔ
بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے
مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے
حمایت علی شاعرؔ
ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کے مانند
ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے
حمایت علی شاعرؔ
ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
حمایت علی شاعرؔ

