EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہر طرف اک مہیب سناٹا
دل دھڑکتا تو ہے مگر خاموش

حمایت علی شاعرؔ




ایماں بھی لاج رکھ نہ سکا میرے جھوٹ کی
اپنے خدا پہ کتنا مجھے اعتماد تھا

حمایت علی شاعرؔ




اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اور
جب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور

حمایت علی شاعرؔ




اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے
چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے

حمایت علی شاعرؔ




اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے

حمایت علی شاعرؔ




کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

حمایت علی شاعرؔ




میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ مری بات
خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے

حمایت علی شاعرؔ