زباں سے بات نکلی اور پرائی ہو گئی سچ ہے
عبث اشعار کو کرتے ہیں ہم تشہیر پہلے سے
حاتم علی مہر
آہ یہ برسات کا موسم یہ زخموں کی بہار
ہو گیا ہے خون دل آنکھوں سے جاری ان دنوں
حیا لکھنوی
چمن وہی ہے گھٹائیں وہی بہار وہی
مگر گلوں میں وہ اب رنگ و بو نہیں باقی
حیا لکھنوی
نگاہ شوق اگر دل کی ترجماں ہو جائے
تو ذرہ ذرہ محبت کا راز داں ہو جائے
حیا لکھنوی
رہیں غم کی شرر انگیزیاں یارب قیامت تک
حیاؔ غم سے نہ ملتی گر کبھی فرصت تو اچھا تھا
حیا لکھنوی
اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ
بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا
حیات لکھنوی
چہرے کو تیرے دیکھ کے خاموش ہو گیا
ایسا نہیں سوال ترا لا جواب تھا
حیات لکھنوی

