EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زباں سے بات نکلی اور پرائی ہو گئی سچ ہے
عبث اشعار کو کرتے ہیں ہم تشہیر پہلے سے

حاتم علی مہر




آہ یہ برسات کا موسم یہ زخموں کی بہار
ہو گیا ہے خون دل آنکھوں سے جاری ان دنوں

حیا لکھنوی




چمن وہی ہے گھٹائیں وہی بہار وہی
مگر گلوں میں وہ اب رنگ و بو نہیں باقی

حیا لکھنوی




نگاہ شوق اگر دل کی ترجماں ہو جائے
تو ذرہ ذرہ محبت کا راز داں ہو جائے

حیا لکھنوی




رہیں غم کی شرر انگیزیاں یارب قیامت تک
حیاؔ غم سے نہ ملتی گر کبھی فرصت تو اچھا تھا

حیا لکھنوی




اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ
بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا

حیات لکھنوی




چہرے کو تیرے دیکھ کے خاموش ہو گیا
ایسا نہیں سوال ترا لا جواب تھا

حیات لکھنوی