EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیں اجال دے پھر دیکھ اپنے جلووں کو
ہم آئنہ ہیں مگر پردۂ غبار میں ہیں

حیات وارثی




دیکھنے والے زمانے کا بھی حق ہے مجھ پر
سب کی نظروں سے چھپا کر مری تصویر نہ دیکھ

ہزار لکھنوی




دل کی دھڑکن مرے ماتھے کی شکن ہے کہ نہیں
روح تقدیر سمجھ عالم تقدیر نہ دیکھ

ہزار لکھنوی




ہو کے افسردہ مری شومیٔ تقدیر نہ دیکھ
اپنے پیروں میں مرے پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

ہزار لکھنوی




آؤ مل بیٹھ کر ہنسیں بولیں
نہیں معلوم کب جدا ہو جائیں

حزیں لدھیانوی




جو پا لیا تجھے میں خود کو ڈھونڈنے نکلا
تمہارے قرب نے بھی زخم نارسائی دیا

حزیں لدھیانوی




نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری
اگرچہ مل گئے دیہات آ کے شہروں سے

حزیں لدھیانوی