طلوع ہوگا ابھی کوئی آفتاب ضرور
دھواں اٹھا ہے سر شام پھر چراغوں سے
حزیں لدھیانوی
تندیٔ سیل وقت میں یہ بھی ہے کوئی زندگی
صبح ہوئی تو جی اٹھے، رات ہوئی تو مر گئے
حزیں لدھیانوی
اتر کے نیچے کبھی میرے ساتھ بھی تو چلو
بلند کھڑکیوں سے کب تلک پکارو گے
حزیں لدھیانوی
اب کہے جاؤ فسانے مری غرقابی کے
موج طوفاں کو مرے حق میں تھا ساحل ہونا
ہیرا لال فلک دہلوی
اے شام غم کی گہری خموشی تجھے سلام
کانوں میں ایک آئی ہے آواز دور کی
ہیرا لال فلک دہلوی
اپنا گھر پھر اپنا گھر ہے اپنے گھر کی بات کیا
غیر کے گلشن سے سو درجہ بھلا اپنا قفس
ہیرا لال فلک دہلوی
چراغ علم روشن دل ہے تیرا
اندھیرا کر دیا ہے روشنی نے
ہیرا لال فلک دہلوی

