ہر صدا سے بچ کے وہ احساس تنہائی میں ہے
اپنے ہی دیوار و در میں گونجتا رہ جائے گا
حیات لکھنوی
مدعا ہم اپنا کاغذ پر رقم کر جائیں گے
وقت کے ہاتھوں میں اپنا فیصلا رہ جائے گا
حیات لکھنوی
سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا
ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا
حیات لکھنوی
یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے
سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا
حیات لکھنوی
یہ جذبۂ طلب تو مرا مر نہ جائے گا
تم بھی اگر ملوگے تو جی بھر نہ جائے گا
حیات لکھنوی
دوسروں کے واسطے جیتے رہے مرتے رہے
خوب سیرت لوگ تھے راز محبت پا گئے
حیات رضوی امروہوی
ہے اختیار ہمیں کائنات پر حاصل
سوال یہ ہے کہ ہم کس کے اختیار میں ہیں
حیات وارثی

