EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا تفرقہ ہوا جو ہوئے یار سے الگ
دل ہم سے اور ہم ہیں دل زار سے الگ

حاتم علی مہر




مار ڈالا تری آنکھوں نے ہمیں
شیر کا کام ہرن کرتے ہیں

حاتم علی مہر




مجمع میں رقیبوں کے کھلا تھا ترا جوڑا
کل رات عجب خواب پریشاں نظر آیا

حاتم علی مہر




نہ لے جا دیر سے کعبہ ہمیں زاہد کہ ہم واں بھی
خدا کو بھول جاتے ہیں بتوں کو یاد کرتے ہیں

حاتم علی مہر




نہ ذقن ہے وہ نہ لب ہیں نہ وہ پستاں نہ وہ قد
سیب و عناب و انار ایک شجر سے نکلے

حاتم علی مہر




رات دن سجدے کیا کرتا ہے حوروں کے لئے
کوئی زاہد کی نمازوں میں تو نیت دیکھتا

حاتم علی مہر




راتوں کو بت بغل میں ہیں قرآں تمام دن
ہندو تمام شب ہوں مسلماں تمام دن

حاتم علی مہر